28 مئی 2012 - 19:30

موصولہ اطلاعات مطابق لوئر کرام ایجنسی کے علاقے چار خیل کے مقام پر کالعدم ملک دشمن جماعتوں کے دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں دو شیعہ مسافر شہید ہوگئے ہے / طالبان کی سرکاری سرپرستی ختم کی جائے ورنہ جی ایچ کیو کے سامنے دھرنا دیں گے۔ قبائلی جرگے کا انتباہ / آرمی و ایف سی کو پاراچنار شہر سے ہٹا کر طالبان کا صفایا کیا جائے اور پاراچنار شہر کی سیکورٹی لیوی فورس کے حوالے کی جائے؛ شیعیان پاراچنار کا مطالبہ

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق طالبان دہشتگردوں نے مسافر بس کو لوئر کرم ایجنسی کے علاقے چار خیل مقام پر نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید ہوگئے۔ زخمی مسافرین کو قریبی ٹل اسپتال منتقل کردیا گیا۔ پاراچنار کے قبائل کا انتباہ اس بار "GHQ" کے سامنے دھرنا دیں گے۔شہید ہونے والے مومنین کی شناخت افتخار حسین اور عابد حسین کے نام سے ہوئی ہے۔ جن کا تعلق پاراچنار سے ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والے افتخار حسین اور عابد حسین کے جسد خاکی کو پاراچنار کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔ البتہ فائرنگ کے نتیجے میں 6 شیعہ مسافرین زخمی ہوئے ہے جن میں ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے۔ 6زخمی مسافرین میں 3 کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ادھر پاراچنار کی شیعہ قوموں کے احتجاجی جلسے کے بعد حکومت سے ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا گیا اور حکومت کو خبردار کیا گیا کہ اگر حکومت طالبان کی سرپرستی جاری رکھے تو پاکستانی افواج کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز "GHQ" کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سوموار کے دن پشاور سے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار جانی والی مسافر کوچ پر چارخیل لوئر کرم کے مقام پر دہشت گردوں کے حملے میں تین افراد کی شہادت اور بچوں و خواتین سمیت کئی افراد کے زخمی ہونے سے علاقے کے حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔ دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد بازار اوردکانیں بند ہوگئیں اور ٹل پاراچنار روڈ پر آمد ورفت ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے۔ حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی میں زخمی ہونے والے عینی شاہد نے کہا: ہماری گاڑی سرکاری افواج کے چیک پوسٹ کے قریب ہی حملے کا نشانہ بنی اور وہاں سیکورٹی والے بھی موجود تھے لیکن وہ دہشت گردوں کے خلاف جوابی کاروائی کرنے کی بجائے خاموش تماشائی بنے رہے اور دہشت گرد مسلح سرکاری اہلکاروں کے سامنے نہتے مسافروں پر فائرنگ کرتے رہے۔ جو پاراچنار کے محب وطن شیعیان آل محمد (ص) کے خلاف ریاستی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں سیکورٹی ادارے اور طالبان دونوں برابر کے شریک ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹل پاراچنار روڈ کھلنے کے بعد صرف پانچ ماہ میں دہشت گردوں کی طرف سے خلاف ورزی کا یہ مسلسل اکیسواں حملہ ہے لیکن حکومت نے ابھی تک ان حملوں کے نتیجے میں حملہ آوروں اور ان کے حامیوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی، کسی کو گرفتار نہيں کیا اور معاہدے کے مطابق جرمانے کی رقم نہيں مانگي گئی جس سے دہشت گردوں کو سرکاری سرپرستی کے حوالے سے موجودہ شکوک و شبہات کو تقویت مل رہی ہے۔دریں اثناء دہشت گردی کی اس سفاکانہ کاروائی کے بعد کرم ایجنسی کے صدر مقام میں واقع شہدا پارک میں شیعہ قبائل کے عمائدین کا ہنگامی جرگہ ہوا۔ جس میں قبائلی مشران نے الزام لگایا کہ لوئر کرم میں طالبان دہشت گردوں کی سرکاری سرپرستی ہو رہی ہے۔انہوں نے آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں دوسری مرتبہ توسیع کے جواز کے لئے وادی کرم کو دوسرا وزیرستان نہ بنائے۔ قبائلی عمائدین نے دھمکی دی کہ اگر محب وطن شیعہ قبائل کے خلاف طالبان کی سرکاری سرپرستی ختم نہ کی گئی تو وہ احتجاجا روالپنڈی میں جی ایچ کیو کے سامنے دھرنا دیں گے۔ انہوں نے سول سوسائٹی، عدلیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ وحیدہ شاہ کے ایک تھپڑ کا تو مہینوں تذکرہ ہوتا ہے لیکن پاراچنار کے محب وطن عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والا ظلم و جبر اور مسافر گاڑیوں میں بچوں و خواتین کا قتل کسی کو نظر نہیں آتا۔جرگہ نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جس میں پاراچنار شہر و مضافات میں مثالی امن ہونے کی وجہ سے آرمی و ایف سی کو پاراچنار شہر سے ہٹا کر طالبان کے زیر کنٹرول لوئر کرم میں طالبان کا صفایا کرنےاور پاراچنار شہر کی سیکورٹی لیوی فورس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

بشکریہ از شیعیت نیوز